یوں تازگیِ روح کا سامان کریں گے ہر سانس کو آقا کا ثنا خوان کریں گے
جوڑیں گے مدینے کی ہواؤں سے تعلق افکار کے جنگل کو گلستان کریں گے
کروا کے اسے گنبدِ خضریٰ کا نظارہ ہم نفسِ منافق کو مسلمان کریں گے
کیا کیا نہ عطا ہوگا فقیروں کو وہاں سے دربار میں جب مدحتِ سلطان کریں گے
لٹکیں گی یونہی سر پہ ہمارے یہ صلیبیں جب تک نہ قبول آپ کا فرمان کریں گے
پھوٹیں گی ہر اِک شعر سے تاثیر کی کرنیں ہم نعت کو جب تابعِ قرآن کریں گے
محشر میں پڑھے جائیں گے سرکار کی نعتیں یوں مرحلہِ خُلد کو آسان کریں گے
ہر ذہن کو ہم دیں گے مدینے کا تصور ہر قلب کو ہم صاحبِ عرفان کریں گے
جس ذات سے شہزاد ہے ہر چیز سلامت اُس ذات پہ ہر چیز کو قربان کریں گے