گر آنکھ سو بھی جائے تو کرتا ہے اپنا کام دل کو ہے اسم ذات سے کچھ ایسا التزام
تسبیح خواں ہیں اس کے سمک تا سما سبھی ہر دل میں اس کی یاد ہے ہر لب پہ اس کا نام
قمری کے زمرے میں ہے تمجید کردگار کوئل کے لب پہ اس کا ترانہ ہے صبح و شام
مسجودِ خشک و تر ہے وہی ذات لاشریک ہے بحر و بر میں اس کی عبادے کا اہتمام
دیتا ہوں اس کو آیۂ لا تقنطوا سے مات جب بھی مجھے ستائے ہے میرا خیال خام
در پیش آدمی کو ہے لغزش قدم قدم آتا ہے تھامنے کو کرم اس کا گام کام
مبسا ہر ابتدا کا وہی ذات لایزال ہر انتہا کا اس کی مشیت پہ اختتام
شہزاد جس کا حامی و ناصر ہو خود خدا رہتا نہیں وہ شخص زمانے میں بے مرام