وہ بشر جس کے تصور سے قوی ایمان ہو کون ہے ان کے سوا جو بولتا قرآن ہو
شامِ ہستی میں جلیں حُسنِ عقیدت کے چراغ روشنی صبحِ جہاں میں نعت کا فیضان ہو
پھر عطا ہو جائیں قلب و جاں کو وہ سرشاریاں پھر مرے آقاﷺ حضوری کا کوئی سامان ہو
یہ زمیں کیا آسمانوں میں بھی ہوں جس کے وزیر غیر ممکن ہے کہ اب ایسا کوئی سلطان ہو
زیبِ تن ان کے نہ ہو کیوں کر امامت کی قبا جن کا ہر ارشادِ پاک اللہ کا فرمان ہو
مظہرِ ذات و صفاتِ حق تعالیٰ ہیں حضورﷺ کیوں نہ اُن کے حسن سے ظاہر خدا کی شان ہو
ذکرِ اوصافِ نبیﷺ شہزاد اکثر کیجئے شاید اس طرح سے کچھ شکرانہ احسان ہو