ذات قدیم صاحب ہر فخر و ناز ہے ستار ہے صمد ہے وہی بے نیاز ہے
رہتا ہے مہربان دو عالم پہ ہر گھڑی میرا خدا کریم ہے ، بندہ نواز ہے
جھکتے ہیں اس کے آگے ملک بھی رسول بھی سارا اسی کے واسطے عجز و نیاز ہے
نغمہ سرائے حمد ہے بارش کی بوند بوند دستِ صبا میں اس کی عقیدت کا ساز ہے
جلوه گری اسی کی ہے نرگس کی آنکھ میں اس کے کرم سے کاکل سنبل دراز ہے
وہ کھولتا ہے گنبد بے در میں کھڑکیاں دنیا میں اس کا لطف بلا امتیاز ہے
کرتا ہے روز ایک نئی شان سے ظہور یہ اختلاف صبح و مسا اس کا راز ہے
معبود ہے مجید و معین و مغیث بھی مشکل کشا وہی ہے وہی کارساز ہے
ایاک نعبد کہیں ایاک نستعین معراج بندگی کا ذریعہ نماز ہے
لرزاں ہیں ارض و کوہ و فلک اس کے سامنے اللہ کا کلام بڑا جاں گداز ہے
انوار اسم ذات کی تاثیر کے طفیل دل میں ہے کیف روح میں اک اہتزاز ہے
جب موت ہے وسیلہ دیدار ذات حق پھر آدمی کو موت سے کیوں احتراز ہے
رہتے ہیں سدا اس کے خزانوں کے منہ کھلے ہر لحظہ اس غنی کا در جود باز ہے
پاتا ہے ذاتِ حق سے وہ توفیق نعت کی شہزاد اس کے فضل سے جو سرفراز ہے