جو تیری یاد میں گزرے وہی لمحہ مؤثر ہے کہ اس لمحے کی خوشبو سے مشامِ جاں معطر ہے
پرونا فکر کی تسبیح میں موتی دُرودوں کے یہی ہے حاصلِ ہستی یہی میرا مقدر ہے
جنابِ سرورِ کونین کی چوکھٹ پہ وہ دیکھو! گزارش لے کے پلکوں پر کھڑا کوئی سخنور ہے
کوئی سلطان پھر کیسے جچے اس کی نگاہوں میں درِ سرکار کا سائل تو خود رشکِ سکندر ہے
نظر سرکار کی سیرت کے ہر پہلو پہ ہو جس کی وہی مرشد وہی رہبر وہی حاکم مؤقر ہے
پہنچتی ہے کمک ہر دم مجھے شہرِ مدینہ سے مرے آگے اسی خاطر مری ہستی مسخر ہے
شہِ کونین کے لطف و کرم پر ہے مدار اس کا حقیقت آشنا جس نور سے میرا تصور ہے
خدا کے فضل سے تحریک ہے میرے لطائف میں نگاہِ مرشدِ کامل سے میرا دل منور ہے
عجب فیضان ہے شہزاد نعتِ سرورِ دیں کا پریشانی کے اندر بھی مجھے تسکین میسر ہے