کون کہتا ہے خدائی چاہیے بس محمدﷺ کی گدائی چاہیے
ساز و ساماں پاس ہے لیکن حضور! قافلے کو رہنمائی چاہیے
اب تو کرتا ہے تقاضا نفس بھی قیدِ خواہش سے رہائی چاہیے
ان کی عظمت کو سمجھنے کے لیے عز و شانِ کبریائی چاہیے
آرزو ہے دیدۂ بے تاب کی پھر وہی جلوہ نمائی چاہیے
قصر والوں سے غرض ہم کو نہیں شہرِ طیبہ تک رسائی چاہیے
اے سراپا نور! اے ظلمت شکن قریہِ جاں کو صفائی چاہیے
کام جو شہزاد آئے حشر میں اب کوئی ایسی کمائی چاہیے