پہنچا مرا درود جو اُن کی جناب میں مجھ کو سلام عرش سے آیا جواب میں
جب تک نہ ہو شریعتِ خیر الوریٰ کا فیض ممکن نہیں تمیز گناہ و ثواب میں
اب تو کوئی سبیل حضوری کی ہو حضور کب تک رہے گی جان مسلسل عذاب میں
اشکوں نے کی بلالؓ کے لہجے میں گفتگو صد شکر کامیاب رہا میں خطاب میں
ان کے سوا جہان میں ایسا نہیں کوئی جس نے کیا ہو قید سمندر حباب میں
کیسے ثنائے سرورِ عالم کو چھوڑ دیں لازم یہ شِق ہے عشقِ رسالت کے باب میں
والشمس، والقمر کہیں واللیل و والضحیٰ نعتیں لکھی ہوئی ہیں خدا کی کتاب میں
اک بار اور کیجئے شہزاد پر کرم اک بار اور آیئے سرکارﷺ خواب میں