تکتا ہے سوئے گنبدِ خضریٰ بچشمِ نم زائر جو چھوڑتا ہے مدینہ بچشمِ نم
ہوتی ہیں اس کی ذات پہ رحمت کی بارشیں دیکھے جو ایک بار وہ روضہ بچشمِ نم
مقبول بارگاہ کو ہوتا ہے بس نصیب یادِ شہِ ہدیٰ میں تڑپنا بچشمِ نم
اہلِ نظر کو ارضِ مدینہ ہے کیوں عزیز جا کر وہاں یہ بات سمجھنا بچشمِ نم
پوچھو تم اُس سے روضہ سرکارﷺ کا مقام دیکھا ہے جس نے خلد کا نقشہ بچشمِ نم
پہنچے دیارِ قدس میں جتنے تھے خوش نصیب پیچھے رہا حضورﷺ میں تنہا بچشمِ نم
ارضِ حرم میں کاش میں باطن کی آنکھ سے دیکھوں تجلیات کی دنیا بچشمِ نم
آقاﷺ! مجھے دکھائے راہِ مدافعت دیتا ہوں اپنی ذات کا پہرہ بچشمِ نم
ٹھہروں گا اس دیار میں شہزاد کس طرح میں نے ہزار بار یہ سوچا بچشمِ نم