سہارا دے دیا بروقت اُن کی غمگساری نے مجھے تو مار ڈالا تھا مری عصیاں شعاری نے
ضرورت ہے مجھے سرکار پھر تسکین و راحت کی بنایا قریہ جاں میں ٹھکانہ بے قراری نے
کبھی ممکن نہیں تھا نخوت و ظلم و تشدد سے کیا جو کام سلطانِ حرم کی انکساری نے
مجھے اعزاز دے وہ کاش اپنی میزبانی کا شرف بخشا ابو ایوب کو جس کی سواری نے
صحابہ ہوں رسول اللہ کے یا اولیاء اللہ نوازے ہیں انہیں یہ مرتبے خدمت گزاری نے
خدا کے نور کی کرنیں اسی کے صحن میں چمکیں اگرچہ راستہ روکا بہت بوجہل ناری نے
اثر ہے سارے عالم میں ہوائے شہرِ طیبہ کا چمن کو رنگ بخشے ہیں اسی بادِ بہاری نے
ہجومِ رنج ہو شہزاد یا مجمع مصائب کا مجھے تنہا نہیں چھوڑا کبھی محبوبِ باری نے