پاؤں جو دل میں خواہش جاہ و حشم کو میں کرتا ہوں یاد آپ کے سنگِ شکم کو میں
رہتا ہے اس کی نوک پر اسمِ رسولِ پاکﷺ دیتا ہوں اس خیال سے بوسہ قلم کو میں
پڑھتے ہوئے درود خدا کے حبیب پر جاؤں گا اطمینان سے ملکِ عدم کو میں
آتا ہے رشک سائلِ طیبہ کے بخت پر تکتا ہوں جب حضورﷺ کے جود و کرم کو میں
اب تو مجھے نصیب ہو طرزِ عرب حضورﷺ! بیٹھا ہوں کب سے چھوڑ کر رسمِ عجم کو میں
ڈھل کر نیاز و عجز کے سانچے میں سرتاپا چوموں گا جا کے ایک دن ارضِ حرم کو میں
کرتا ہوں اپنا قبلہِ فکر و نظر درست مرکز بنا کر آپ کے نقشِ قدم کو میں