نعت سرکار کہاں اور کہاں میں بیکار شعر گوئی ہے مری اُن کے کرم کا اظہار
زیب دیتی ہے جہان بانی انہیں قوموں کو آپ جیسا ہو جن اقوام کا میر و سردار
جب سے دیکھا ہے وہ خورشیدِ نبوت میں نے تب سے رہتا ہے میرا بخت ہمیشہ بیدار
کاش آجائے میسر وہ شفا بخش فضا جس میں پاتے ہیں سکوں سارے جہاں کے بیمار
آپ کے لطف و عطا، جود و سخا نے توڑی نفرت و جبر جفا، جور و ستم کی دیوار
اور جچتا ہی نہیں کوئی قسم سے اُس کو کوئی کر لیتا ہے جب آپ کے رُخ کا دیدار
چاند ہے آپ کا خادم تو ہے خورشید غلام آپ کے حکم پہ چلتے ہیں جبال و اشجار
اب تو موصول حضوری کا ہو پیغام مجھے اب تو مل جائے مجھے کوئی بشارت سرکار
اپنے شہزاد کے حالات پہ بھی ایک نظر فرش تا عرش کیا آپ کو حق نے مختار