ملے گی قلب کو تسکین زیرِ گنبدِ خضریٰ بہ فیضِ طٰہٰ و یٰسین زیرِ گنبدِ خضریٰ
جہانِ رنگ و بو محتاج ہے جس کے تصرف کا ہے ایسا صاحبِ تکوین زیرِ گنبدِ خضریٰ
ٹھکانہ آؤ پہلے سے بنا لیں ہم وہاں اپنا سمٹ جائے گا آخر دین زیرِ گنبدِ خضریٰ
کھڑا ہو کر کروں نذرِ نبیﷺ تحفہ تحیت کا پڑھوں پھر بیٹھ کر یٰسین زیرِ گنبدِ خضریٰ
مرے قلب و نظر میں نور کے فانوس ہوں روشن ہو میری روح کی تزئین زیرِ گنبدِ خضریٰ
عجب کیا ہے مدینے کی فضا مجھ کو میسر ہو لکھوں اس نعت کی تضمین زیرِ گنبدِ خضریٰ
مقام اس سبز گنبد کا کوئی افلاک سے پوچھے خدا کے لاڈلے ہیں تین زیرِ گنبدِ خضریٰ
اگر توفیق مل جائے مواجہ میں حضوری کی بجاؤں ہچکیوں کی بین زیرِ گنبدِ خضریٰ
مجھے خیرات دیں سرکار اسرار و معارف کی کریں ارشاد اور تلقین زیرِ گنبدِ خضریٰ
سمندر رحمتوں کے جوش میں آ جایا کرتے ہیں صدا دے جب کوئی مسکین زیرِ گنبدِ خضریٰ
درودِ پاک ہو شہزاد ہو روضے کی جالی ہو دعا ہے سب کہو آمین زیرِ گنبدِ خضریٰ