ہے وادیِ بطحا کی فضا اور طرح کی چلتی ہے مدینے میں ہوا اور طرح کی
ہر بات کہی جاتی ہے اشکوں کی زباں میں ہوتی ہے مواجہ میں دعا اور طرح کی
اے سائلو! یہ رحمتِ کونین کا در ہے ہوتی ہے یہاں بھیک عطا اور طرح کی
اے کاش ہو ایسی مرے افکار میں جدت ہر روز کروں مدح و ثنا اور طرح کی
طاری ہے دل و جاں پہ عجب بسط کا عالم لائی ہے خبر بادِ صبا اور طرح کی
جس شان سے چاہیں جسے سرکار نوازیں ہر کعب کی خاطر ہے ردا اور طرح کی
دیتا ہے سبق اَشْہَدُ وَ اسہد کا تفاوت ہوتی ہے مقرب کی خطا اور طرح کی
نازک ہے مزاج اس کا بہت نظم و غزل سے ہے نعتِ نبیﷺ صنفِ ذرا اور طرح کی
شہزاد کو ہو جائے عطا رنگِ اویسی عشاق میں ہو میری وفا اور طرح کی