ہے اپنی جگہ خوب عبادات کی لذت لیکن ہے جدا تیری ملاقات کی لذت
ملتا ہے عجب لطف ترے شہر کی حد میں مسحور کیے دیتی ہے حالات کی لذت
جس رات کہ حاصل تھا ترے رخ کا نظارہ بھولی نہیں اب تک مجھے اس رات کی لذت
روشن تری تقلید سے اعمال کا چہرہ تسکینِ فشاں تیرے خیالات کی لذت
ہے اوج پہ اس شخص کی قسمت کا ستارہ حاصل ہو جسے خدمتِ سادات کی لذت
ہو جاتا ہے اک کیف مری روح پہ طاری یاد آتی ہے جب تیرے مقالات کی لذت
ٹوٹا ترے ارشاد سے تفریق کا جادو بخشی تری سیرت نے مساوات کی لذت
فتویٰ یہ ملا حضرتِ مالک کے عمل سے قرباں تیری دہلیز پہ عرفات کی لذت
پاتا ہی نہیں نعت سے شہزاد فراغت چکھ لیتا کبھی ورنہ مناجات کی لذت