دیارِ باطن کی ہر گلی میں رہیں ثناء کے چراغ روشن شعورِ نعتِ نبیﷺ کی کرنوں سے ہو مرا بھی دماغ روشن
انہیں کی نسبت سے جنگلوں میں پر صدا بہاریں ہیں گلستاں کی انہیں کی برکت سے ہو گئے ہیں دلوں کے ٹوٹے ایاغ روشن
ملی ہیں کتنی حسیں ادائیں خدا سے محبوبِ دو جہاں کو کہ جن اداؤں کی یاد سے ہیں دلوں میں الفت کے داغ روشن
وسیلہ عالم میں آیتوں کے فروغ کا کس کی ذات ٹھہری کئے خدا نے لبوں پہ کس کے حروفِ الاّ البلاغ روشن
نجات کس کے کرم سے پائی دلِ قلندر نے ماسوا سے کئے ہیں کس نے شبِ ہوا میں اطاعتوں کے چراغ روشن
تجھے بھی شہزاد مل ہی جائے گا نور آقاﷺ کی بارگہ سے کہ ہے عقابوں کی ہم نشینی کے فیض سے قلبِ زاغ روشن