دیارِ باطن کے طاقچوں میں دیئے ثنا کے جلائے رکھنا ادب سے پلکوں پہ آنسوؤں کے حسین موتی سجائے رکھنا
اگر نہ اُن کے ادب کا دامن ہمارے دستِ نیاز میں ہو عبث ہے صوم و صلوٰۃ کے پھر پہاڑ سر پر اٹھائے رکھنا
اگر نہ کشتِ یقیں پہ برسیں سحابِ لطفِ نبیﷺ کی بوندیں تو بے اثر ہے ریاضتوں کی چِتا میں خود کو بٹھائے رکھنا
حروفِ نعتِ نبیﷺ کی قوت کا ایک ادنیٰ مظاہرہ ہے ہمارا نوکِ قلم چبھو کر ضمیرِ شب کو جگائے رکھنا
لگاؤ یادِ نبیﷺ کے پودے دل و نظر کی کیاریوں میں جو چاہتے ہو عقیدتوں کا چمن ہمیشہ کھلائے رکھنا
علاجِ امراضِ روح و جاں کا ہے ذکرِ صلِ علیٰ میں پنہاں جو چاہتے ہو سکوں کی دولت اسی میں دل کو لگائے رکھنا
یہی ہے ایمان کا تقاضا، اسی میں ذاتِ خدا ہے راضی جبیں عجز و نیاز شہزاد اُن کے در پر جھکائے رکھنا