بہار ہی پر نہیں ہے موقوف نعتِ خیر الوریٰ کا موسم ہر اک مہینہ ہے ماہِ مدحت، ہر ایک موسم ثناء کا موسم
رؤف ہیں وہ رحیم ہیں وہ، حبیبِ ربِ کریم ہیں وہ وہ جب ہوں مائل بہ لطف سمجھو یہی ہے فضلِ خدا کا موسم
وہ جن کے نقشِ قدم پہ چل کر ضمیرِ انسان مطمئن ہے رواں ہے کون و مکاں میں ان کے عمل سے رشد و ھدیٰ کا موسم
ملے اجازت تو میں بھی دیکھوں وہ سبز گنبد وہ نوری جالی عطا ہو فصلِ وصال آقا! ہو ختم آہ و بکا کا موسم
انہیں کی دریوزہ گر ہیں صدیاں انہیں کے ادنیٰ گدا زمانے ازل سے تا بہ ابد ہے میرے نبیﷺ کے جود و سخا کا موسم
ابوالبشر تھے نہ ابنِ مریمؑ مگر وہ جلوہ نما تھے پیہم رہا ہے گلزارِ کن فکاں میں انہیں کے عز و علا کا موسم
تو پھر ہے شہزاد کیسا خطرہ ریاضِ اعمال کو خزاں کا فضائے محشر میں جبکہ ہوگا شفاعتِ مصطفیٰﷺ کا موسم