We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

آئیں جب خاتونِ جنت اپنے گھر پڑ گئے سب کام ان کی ذات پر


کام سے کپڑے بھی کالے پڑ گئے ہاتھ میں چکی سے چھالے پڑ گئے


دی خبر زَہرا کو اَسَدُ اللہ نے بانٹے ہیں قیدی رَسُوْلُ اللہ نے



No More Screenshots! Save Storage with Our Lyrics App!

Get it on Google Play


ایک لونڈی بھی اگر ہم کو ملے اس مصیبت سے تمہیں راحت ملے


سن کے زَہرا آئیں صدیقہ کے گھر تاکہ دیکھیں ہاتھ کے چھالے پدر


پر نہ تھے دولت کدہ میں شاہِ دیں والدہ سے عرض کرکے آگئیں


گھر میں جب آئے حبیبِ کبریا والدہ نے ماجرا سارا کہا


فاطمہ چھالے دکھانے آئی تھیں گھر کی تکلیفیں سُنانے آئی تھیں


آپ کو گھر میں نہ پایا شاہِ دیں مجھ سے سب دُکھ درد اپنا کہہ گئیں


ایک خادم آپ اگر ان کو بھی دیں چکی اور چولہے کے وہ دُکھ سے بچیں


سن لیا سب کچھ رسولِ پاک نے کچھ نہ فرمایا شہِ لولاک نے


شب کو آئے مصطفیٰ زَہرا کے گھر اور کہا دُختر سے اے جانِ پدر


ہیں یہ خادم ان یتیموں کے لیے باپ جن کے جنگ میں مارے گئے


تم پہ سایہ ہے رسول اللہ کا آسرا رکھو فقط اللہ کا


ہم تمہیں تسبیح اِک ایسی بتائیں آپ جس سے خادِموں کو بھول جائیں


اوّلاً سُبْحٰن ۳۳ بار ہو اور پھر اَلْحَمْد اِتنی ہی پڑھو


اور ۳۴ بار ہو تکبیر بھی تاکہ ۱۰۰ ہوجائیں یہ مل کر سبھی


پڑھ لیا کرنا اسے ہر صبح و شام وِرد میں رکھنا اسے اپنے مُدام


خلد کی مختار راضی ہوگئیں سن کے یہ ُگفتار خوش خوش ہوگئیں


سالکؔ ان کی راہ جو کوئی چلے دین و دنیا کی مصیبت سے بچے


No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah