We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا


آقا اگر کرم سے طیبہ مجھے بُلاتے روضہ پہ صدقہ ہوتا ان پر نثار ہوتا


وہ بیکسوں کے آقا بے کس کو گر بُلاتے کیوں سب کی ٹھوکروں پرپڑکر وہ خوار ہوتا


طیبہ میں گر میسر دو گز زمین ہوتی ان کے قریب بستا دِل کو قرار ہوتا


مر مٹ کے خوب لگتی مِٹی مری ٹھکانے گر ان کی رہ گزر پر میرا مزار ہوتا


یہ آرزو ہے دل کی ہوتا وہ سبز گنبد اور میں غبار بن کر اس پر نثار ہوتا



Never Be Without Your Favorite Lyrics - Get the App for Offline Access!

Get it on Google Play


بے چین دل کو اب تک سمجھا بجھا کے رکھا مگر اب تو اس سے آقا نہیں انتظار ہوتا


سالکؔ ہوئے ہم ان کے وہ بھی ہوئے ہمارے دلِ مضطرب کو لیکن نہیں اعتبار ہوتا

More Lyrics, Less Storage - Install the App and Ditch the Screenshots!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah