یوں تو کرتے ہیں فرشتے بھی عبادت تیری آئی انسان کے حصے میں نیابت تیری
تیرا آغاز بھی اب تک نہ کوئی جان سکا کون جانے کہ کہاں تک ہے نہایت تیری
انبیا ہی نے کرایا ہے تعارف تیرا انبیا ہی نے بیاں کی ہے روایت تیری
ہو سکا ارض و سما سے نہ تحمل جس کا آخر انساں نے سنبھالی ہے امانت تیری
مست رکھتا ہے سمندر کو تصور تیرا کوہ کو وجد میں لاتی ہے حکایت تیری
چاند، تارے ہیں ترے حُسن کا مظہر مولا! لالہ و گل سے نمایاں ہے نفاست تیری
تیری تسبیح کے خوگر ہیں پرندے سارے پتے پتے سے عیاں ہوتی ہے عظمت تیری
قلب کی آنکھ کھلی ہو تو پتہ چلتا ہے تیرا عرفان ہے کیا، کیا ہے حقیقت تیری
اپنی تسخیر کی کوشش میں لگا ہے کب سے چاہتا ہے ترا شہزاد حمایت تیری