یا الہی مجھے میرے شر سے بچا مجھ کو ابلیس کے ہر اثر سے بچا
اپنی رحمت کے سائے میں محفوظ رکھ فتنہِ زن سے، تعظیم زر سے بچا
مجھ کو اپنی اطاعت کی توفیق دے دین و دنیا میں خوف و خطر سے بچا
جس پہ چل کر خسارہ اٹھانا پڑے مجھ کو ایسی ہر اک رہگزر سے بچا
دے توازن طبیعت کو ہر حال میں مجھ کو تاثیرِ ہر خشک و تر سے بچا
بخش اپنی حضوری کا مولا شرف مجھ کو غفلت پہ مبنی خبر سے بچا
جس میں پنہاں ہو تاثیرِ بغض و حسد میری ہستی کو ایسی نظر سے بچا
جس میں تیرے نبیﷺ کی محبت نہ ہو ہر مسلمان کو اس ڈگر سے بچا
ہم کو حفظِ مراتب کی توفیق دے عیب جویانِ خیر البشر سے بچا
پھر سے نمرودیت ہے مرے سامنے مجھ کو فرعونِ حاضر کے شر سے بچا
مجھ کو ذوقِ قناعت کی خیرات دے اپنے سائل کو غیروں کے در سے بچا
کر دے سجدہ جو تیرے سوا اور کو میرے تن کو سدا ایسے سر سے بچا
جس میں تحسین نہ ہو، جس میں تسکین نہ ہو اس سفر سے بچا، اس حضر سے بچا
یا الہی مری روح کو پاک رکھ! میرے باطن کو ہر شور و شر سے بچا
بخش عصمت کا شہزاد کو سائباں ہر گھڑی حُبِ اموال و زر سے بچا