یا الہی بے کسوں کا آسرا تو ہی تو ہے سر بلندی کی حدوں کا منتہا تو ہی تو ہے
تیرے حسنِ خَلق کا مظہر ہیں یہ شمس و قمر جس کی ہر تخلیق ٹھہری دلربا تو ہی تو ہے
میرے دل کے وسوسے بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں مجھ سے بڑھ کر ہے جسے میرا پتہ تو ہی تو ہے
تیری جانب ہے توجہ جسم و جان و روح کی میرے مولا! مرجعِ حرفِ دُعا تو ہی تو ہے
تیرے اوصاف و محاسن کا بیاں ممکن ہی نہیں میرے ہر حمد و ثنا سے ماورا تو ہی تو ہے
بن گیا شہزاد تیرے لطف سے عبد النبی جس کے بندے ہیں نبی وہ ذوالعُلا تو ہی تو ہے