وہی مصور وہی ہے باری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ اسی کی حمد و ثنا ہے ساری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
وہی ہے خالق وہی ہے مالک وہ سب کا رب ہے وہ سب کا رازق اسی کا سکہ جہاں میں جاری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
وہی ہے معبودِ عالمیں کا وہی نگہباں ہے اس زمیں کا اسی کو لائق ہے تاجداری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
وہی تو مطلوبِ انبیا ہے وہی تو مقصودِ اصفیا ہے اسی کی خاطر ہے اشکباری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
ہیں اس کے قبضے میں سب خزانے اسی کے در یوزہ گر زمانے وہی تو کرتا ہے چارہ کاری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
خدائے جن و بشر وہی ہے حقیقتاً مقتدر وہی ہے اُسی کے نوری اسی کے ناری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
رحیم ہے وہ کریم ہے وہ عظیم تر سے عظیم ہے وہ وہی مٹائے گا بے قراری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
چمن میں بلبل کا چہچہانا، سحر کو غنچوں کا کھلکھلانا اُسی نے دی گل کو طرح داری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ
اُسی سے شہزاد ہے محبت اُسی کی کرتے ہیں ہم عبادت اُسی کا دل پر ہے خوف طاری رَضِيْتُ بِاللّٰہِ رَضِيْتُ بِاللّٰہِ