تو اصلِ حسن و جمال یارب! تو خالقِ ہر کمال یارب!
ہر ایک تشبیہ سے منزہ نہیں ہے تیری مثال یارب!
ترا تصرف ہے خشک و تر پر ترے ہیں دشت و جبال یارب!
بڑائی شایانِ شاں ہے جس کے تو ہے وہی ذوالجلال یارب!
تجھے ہی زیبا ہے بس تکبر ہے فخر تیرا ہی مال یارب!
مجھے عطا ہو یقیں کی دولت چلا تواضع کی چال یارب!
کھڑا ہے کاسہ بدست سائل جواب چاہے، سوال یارب!
گدا کو بخشے جو بے نیازی عجب ہے تیرا خیال یارب!
کہیں قدم لڑکھڑا نہ جائے سنبھال مجھ کو سنبھال یارب!
اٹھی ہے سینے میں اک چھن سی ورائے حزن و ملال یارب!
میں مستحق ہوں مجھے عطاہو زکوٰۃِ عشقِ بلال یارب!
ہوا ہے تیغِ ہوس کا حملہ عطا ہو رحمت کی ڈھال یارب!
کرے جو شہزاد کوئی دعویٰ کہاں یہ اس کی مجال یارب!