تیری جانب جو دھیان باقی ہے اس لئے تو جہان باقی ہے
تیری یادوں کے فیض سے مولا قلب پہ امتنان باقی ہے
اور ہر چیز کے لیے ہے فنا ایک تیری ہی شان باقی ہے
جو ترے رنگ سے ہوئے رنگین اُن کا نام و نشان باقی ہے
دم بھروں میں تری اطاعت کا جب تلک تن میں جان باقی ہے
کروٹیں لیں کئی زمانے نے پر ترا سائبان باقی ہے
بخش دے گا گناہگار کو تو یہ یقیں، یہ گمان باقی ہے
مٹ گئے نام بادشاہوں کے ذکر تیرا ہر آن باقی ہے
جانے شہزاد کس ادا کے طفیل یہ زمیں آسمان باقی ہے