سب سے افضل سب سے اعلیٰ تیرا نام سب سے بہتر سب سے بالا تیرا نام
اوّل، آخر، ظاہر، باطن تیری شان ہر اونچے کی سوچ سے اونچا تیرا نام
ملتی ہے تسکین اسی سے روحوں کو کتنا میٹھا، کتنا پیارا تیرا نام
شاہد ہے ہر ذرہ تیری قدرت پر لکھا ہے ہر چیز پہ مولا تیرا نام
میری ہر اک رگ میں کرنیں رقصاں ہیں جب سے صحنِ روح میں چمکا تیرا نام
جب بھی شاخِ نخلِ تمنا خشک ہوئی آس کا بادل بن کر برسا تیرا نام
جس کے دل کی آنکھ خدایا روشن ہے اُس نے ہر سُو روشن دیکھا تیرا نام
اُس دن سے اک کیف سا اس پر طاری ہے جس دن سے شہزاد نے جانا تیرا نام