پتھر میں تیرے فضل نے پودے اگا دیے تیرے کرم کی موج نے مردے جلا دیے
کیا کیا نوازشات ہیں تیری جہان پر بندوں پہ نعت کے خزانے لٹا دیے
پھولوں، پھلوں سے بخش دی زینت زمین کو مہر و مہ و نجوم فلک پر سجا دیے
طبع بشر کا ان سے تعلق ہے اس لیے موسم یہ سرد گرم خدا نے بنا دیے
دعوت ہے غور و فکر کی تخلیق روز و شب قدرت کے راز ارض و سما میں چھپا دیے اہل نظر کو بخش کر اپنی رضا کا شوق ان کو حصول قرب کے نسخے بتا دیے
فتح و ظفر ہے تیرے سپاہی کے سر کا تاج باطل کے تہری فوج نے چھکے چھڑا دیے
بخشا ہے تو نے نعت کا شہزاد کو ہنر تو نے ہی اس کو حمد کے مضمون سجھا دیے