مرے مالک! میں تیری یاد میں تسکین پاتا ہوں میں اپنے دل میں تیرے ذکر کی محفل سجاتا ہوں
مراقب ہو کے تیرے قرب کی لذت اٹھاتا ہوں میں رنگ و نور کے چشموں میں اس صورت نہاتا ہوں
کبھی میں اَنفُس و آفاق میں چکر لگاتا ہوں کبھی عرشِ معلیٰ سے بھی آگے گھوم آتا ہوں
حواسِ خمسہِ باطن میں تیرا شوق بڑھتا ہے تری تسبیح کے نغمات جب میں گنگناتا ہوں
تخیل رابطہ کرتا ہے جب اصلِ لطائف سے بڑی مشکل سے اپنے آپ میں اس دم سماتا ہوں
ترے فیضان سے ہیں قلب، روح و سر، خفی روشن ترے لطف و کرم کی روشنی سے جگمگاتا ہوں
بہ فیضِ اسمِ احمدﷺ کوئی دم ایسا بھی ہوتا ہے میں اپنی روح کو سرکارﷺ کے روضے پہ پاتا ہوں
درودِ پاک جب پڑھتا ہوں میں کامل حضوری سے کبھی بطحا میں ہوتا ہوں کبھی طیبہ کو جاتا ہوں
خیال آتا ہے اے شہزاد جب اعمال نامے کا ندامت سے خدا کے سامنے سر کو جھکاتا ہوں