دل کو لذت آشنا کرتا ہے تو عاصیوں کو باصفا کرتا ہے تو
تیری رحمت کی کوئی حد ہی نہیں نعمتیں سب کو عطا کرتا ہے تو
دوستوں سے ہوگا تیرا کیا سلوک دشمنوں کا جب بھلا کرتا ہے تو
نفس امارہ کو کر دے مطمئن بادِ صرصر کو صبا کرتا ہے تو
ایک بچے کے لیے ماں باپ کو پرورش کا واسطہ کرتا ہے تو
اس جہاں میں بھیج کر اپنے رسول حق و باطل کو جدا کرتا ہے تو
اللہ اللہ تیری شفقت کا کمال بے وفاؤں سے وفا کرتا ہے تو
تو فقیروں کو بنا دیتا ہے شاہ بادشاہوں کو گدا کرتا ہے تو
اے مرے مشکل کشا میرے کریم! دور مجھ سے ہر بلا کرتا ہے تو
مرکز امید تیری ذات ہے عرض سائل کی سنا کرتا ہے تو
جب کجی شہزاد پائے نفس میں اس کو سیدھا اے خدا کرتا ہے تو