جرم میرے ہزار یاغفار! رحم تیرا شعار یاغفار!
کر نہ پائے گا کوئی پیمانہ تیرے احساں شمار یاغفار!
میں ہوں اک عبد بے نوا تیرا تو ہے پروردگار یاغفار!
تیری رحمت سے ہے فرشتوں میں آدمی کا وقار یاغفار!
مطلعِ جاں سے اب اتار ہی دے خواہشوں کا غبار یاغفار!
عاجزی عبد کا لبادہ ہے کبر تیرا ازار یاغفار!
نفس کو بادہِ تغافل کا چڑھ نہ جائے خمار یاغفار!
میں ہوں بیم و رجا کی کشتی میں پار مجھ کو اتار یاغفار!
تیرے جود و سخا پہ پلتے ہیں مفلس و تاجدار یاغفار!
کاش ہو طور اک تجلی سے قلب تیرہ و تار یاغفار!
باغِ عرفان میں رہے شہزاد مثلِ بادِ بہار یاغفار!