جرم ہیں بے حساب یا تواب کھول بخشش کا باب یا تواب
پیاس بجھ جائے کشتِ باطن کی بھیج ایسا سحاب یا تواب
بخش تسکین قلب کو میرے دور ہو اضطراب یا تواب
سن صدا "رَبَّنَا ظَلَمْنَا" کی بخش بے احتساب یا تواب
آنکھ نم ہے جبیں عرق آلود قلب ہے آب آب یا تواب
تیرے لطف و کرم کے دریا سے میں رہوں فیضیاب یا تواب
میرے عیبوں پہ ڈال دے پردہ ٹال سارے عذاب یا تواب
تیری رحمت بنا بھی دیتی ہے معصیت کو صواب یا تواب
جس کو تو خود سنوارنا چاہے وہ ہو کیسے خراب یا تواب
مجھ کو خوگر بنا اطاعت کا بخش علم الکتاب یا تواب
تو ہے اَرْحَم ترا رسول رحیم ہوگا کس پر عتاب یا تواب؟
دل سے نکلی ہے سوز و درد کے ساتھ ہو دعا مستجاب یا تواب
ظلمت جاں کو نور کر اے نور! ہو حقیقت یہ خواب یا تواب
قرب شہزاد کو نواز اپنا! اب اٹھادے حجاب یا تواب