ہے عالم کا روزی رساں میرا اللہ ہے خلّاق و ربِ جہاں میرا اللہ
ورائے حدِ ہر گماں میرا اللہ عیاں میرا اللہ نہاں میرا اللہ
کہاں ہے وہ لیکن، کہاں وہ نہیں ہے یہاں میرا اللہ وہاں میرا اللہ
تصّرف ہے دارین میں اس کا جاری ہے مقصودِ ہر انس و جاں میرا اللہ
کھلا کر دلوں میں معارف کے غنچے سجاتا ہے گلزارِ جاں میرا اللہ
میں کیا اس کی شہزاد توصیف لکھوں کہاں میں ضعیف اور کہاں میرا اللہ