فضائے فکر پر چھایا، ہوا غبار اتار ریاضِ جاں میں مرے رب نئی بہار اتار
اُجال کعبہِ دل کے غلافِ کہنہ کو دیارِ سرورِ عالم میں ایک بار اتار
نجات بخش مجھے غیر کے تعلق سے بہت ضعیف ہوں سر سے مرے، یہ بار اتار
جو تیرے حکم کو نافذ کرے زمانے میں فلک سے فرش پر اب تو وہ شہسوار اتار
نکال میرے رگ و پے سے خواہشات کا میل انانیت کا مری آنکھ سے خمار اتار
ستیزہ کار ہے ہر موج میری کشتی سے حیات و موت کے مالک اسے بھی پار اتار
نئے خیال کی شہزاد کو بشارت دے دلِ حزیں پہ کوئی حرفِ خوشگوار اتار