اے رحیم و کریم اے ستار تو نے بخشا ہے آدمی کو وقار
فضل درکار ہے گناہوں کو اے حلیم و وکیل اے غفار
بات بنتی ہے تیری رحمت سے اے شہید و حمید اے مختار
بھر دے مولا ثناء کے پھولوں سے میرے فکر و شعور کا گلزار
آسمان و زمیں یہ شمس و قمر تیری صنعت گری کا ہیں اظہار
سج کے آئے رخِ رسالت پر تیری توحید کے حسیں انوار
تیری تسبیح مجھ سے ہو نہ سکی ہے مرے لب پہ عجز کا اقرار
جو ہوا مجھ سے میں نے کر دیکھا میرے حالات کو اب آپ سنوار
نفس کے شر سے مجھ کو رکھ محفوظ بھوت خواہش کا میرے سر سے اتار
حمد شہزاد سے ہو کیا تیری تو ہے بے عیب اور میں بے کار