We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Tu Ne Apna Jalwa Dikhane Ko Jo Naqab Munh Se Utha DiyaVerified

Shah Niyaz Ahmed Barelvi

تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اٹھا دیا ہوئی محو حیرت بے خودی مجھے آئینہ سا بنا دیا


وہ جو نقش پا کی طرح ہی تھی نمود اپنے وجود کی سو کشش سے دامن ناز نے اسے بھی زمیں سے مٹا دیا


کیا ہی چین خواب عدم میں تھا نہ تھا زلف یار کا کچھ خیال سو جگا کے شور ظہور نے مجھے کس بلا میں پھنسا دیا



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


ذرا چھپ نگاہ رقیب سے پڑی اس گلی میں تھی میری خاک تو نے ایک جھونکے میں اے صبا اسے لے وہاں سے اڑا دیا


رگ و پے میں آگ بھڑک اٹھی پھونکے ہے پڑا سبھی تن بدن مجھے ساقیا مئے آتشیں کا یہ جام کیسا پلا دیا


یہ نہال شعلۂ حسن کا تیرا بڑھ کے سر بہ فلک ہوا میری کاہ ہستی سے مشتعل ہوا سے یہ نہ نشوونما دیا


جب ہی جاکے مکتب عشق میں سبق مقام فنا لیا جو لکھا پڑھا تھا نیازؔ نے سو وہ صاف دل سے بھلا دیا

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah