مجھے بے خودی یہ تو نے بھلی چاشنی چکھائی کسی آرزو کی دل میں نہیں اب رہی سمائی
نہ حذر ہے نہ خطر ہے نہ رِجا ہے نہ دعا ہے نہ خیال بندگی ہے نہ تمناے خدائی
نہ مقام گفتگو ہے نہ محل جستجو ہے نہ وہاں حواس پہنچیں نہ خرد کو ہے رسائی
نہ مکیں ہے نے مکاں ہے نہ زمیں ہے نے زماں ہے دل بے نوا نے میرے جہاں چھاؤنی ہے چھائی
نہ وصال ہے نہ ہجراں نہ سرور ہے نہ غم ہے جسے کہئے خواب غفلت سو وہ نیند ہم کو آئی
من و تو اٹھے جہاں ہوں ہوسیں وہاں کہاں ہوں جو دوئی کے تھی لوازم سو رہائی ان سے پائی
یہاں میں رہا ہوں جب تو سخن نیاز بولوں سنو گے زبان نے سے وہی جو کہے گا نائی