افسانہ میرے درد کا اس یار سے کہہ دو فرقت کی مصیبت کو دل آزار سے کہہ دو
ایک تو ہی نہیں میں بھی ہوں ان آنکھوں کا مارا اے اہل نظر نرگس بیمار سے کہہ دو
میں عشق کی ملت میں ہوں اے شیخ و برہمن جا عشق میرے سبحہ و زنار سے کہہ دو
کیا جوش میں ہے اب مئے وحدت خم دل میں ابلی ہے پڑی رومیؔ و عطارؔ سے کہہ دو
مشکل جو نیازؔ آئی تمہیں فقر میں درپیش جا شاہ نجف حیدر کرار سے کہہ دو