We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Kafir e Ishq Hun Mein Banda e Islam NahiVerified

Shah Niyaz Ahmed Barelvi

کافر عشق ہوں میں بندۂ اسلام نہیں بت پرستی کے سوا اور مجھے کام نہیں


عشق میں پوجتا ہوں قبلہ و کعبہ اپنا ایک پل دل کو مرے اس کے بن آرام نہیں


ڈھونڈھتا ہے تو کدھر یار کو میرے اے ماہ منزلش در دل ما ہست لب بام نہیں


بوالہوس عشق کو تو خانۂ خالی مت بوجھ اس کا آغاز تو آسان ہے انجام نہیں


پھانسنے کو دل عشاق کے الفت بس ہے گھیر لینے کو یہ تسخیر کم از دام نہیں



Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play


کام ہو جائے تمام اس کا پڑے جس پہ نگاہ تشنۂ چشم کو پھر حاجت صمصام نہیں


ابر ہے جام ہے مینا ہے مے گلگوں ہے ہے سب اسباب طرب ساقیٔ گلفام نہیں


ہائے رے ہائے چلی جاتی ہے یہ فصل بہار کیا کروں بس نہیں اپنا وہ صنم رام نہیں


جان جاتی ہے چلی دیکھ کے یہ موسم گل ہجر و فرقت کا مری جان یہ گلفام نہیں


دل کے لینے ہی تلک مہر کی تھی ہم پہ نگاہ پھر جو دیکھا تو بہ جز غصہ و دشنام نہیں


رات دن غم سے ترے ہجر کے لڑتا ہے نیازؔ یہ دل آزاری مری جان بھلا کام نہیں

More Lyrics, Less Storage - Install the App and Ditch the Screenshots!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah