اے دل کہیں نہ جائیو زنہار دیکھنا اپنے ہی بیچ یار کا دیدار دیکھنا
خوبان اس جہاں کا تماشہ جو تو کرے آئینہ دار طلعت دلدار دیکھنا
نیرنگیوں سے یار کی حیراں نہ ہوجیو ہر رنگ میں اسی کو نمودار دیکھنا
اے دل قمار عشق میں ٹک کھیلیو سنبھل بازی نہ دیجو ہار مرے یار دیکھنا
گر نقد جاں طلب کرے وہ شوخ دل ربا انکار واں نہ کیجیو زنہار دیکھنا
ہرگز دوا نہ کیجیو اس غم کی اے نیازؔ سب راحتوں سے غم کو مزیدار دیکھنا