نیستی ہستی ہے یارو اور ہستی کچھ نہیں بے خودی مستی ہے یارو اور مستی کچھ نہیں
لا مکاں کی منزلت پاتا ہے کب کون و مکاں ہو کے ویرانے کے آگے ہے گی بستی کچھ نہیں
کچھ نہیں سب کچھ ہے یارو اور سب کچھ کچھ نہیں تف ہے اس ہستی پہ اے ہمدم یہ ہستی کچھ نہیں
کچھ نہیں ہے وہ جسے کہتے ہیں پستی اے میاں فقر میں پستی یہی ہو اور پستی کچھ نہیں
بندگی اور حق پرستی کچھ نہ ہونا ہے نیازؔ کچھ نہ ہونے کے سوا اور حق پرستی کچھ نہیں