جو ہیں آشنا سر اسرار کے وہ ہیں یار ہر یار و اغیار کے
اندھیرا اجالا نہاں اور عیاں یہ جلوے ہیں سب جلوۂ یار کے
بہار و خزاں ہم پہ ہے ایکساں کبھی یار گل ہیں کبھی خار کے
ادھر کی نہیں جانتے رسم و راہ میاں ہم تو باشندے ہیں پار کے
بنا توڑ ہستی کی لے گنج وصل بڑا گنج ہے زیر دیوار کے
کہاں سے کہاں لے کے پہنچا یہ دل ملائک جہاں سے رہے ہار کے
نہیں قیس و فرہاد سا میں نیازؔ کہ ہوں گرد و صحرا و کہسار کے