تمہارے عشق میں گر جان کے دینے سے میں اڑتا کوئی دن جی کے آخر موت سے مرنا ہی پھر پڑتا
کہاں یہ عشق کا مرنا کہاں وہ موت سر پڑنا یہاں اب روح قدسی ہوں وہاں زیر زمیں سڑنا
زیارت گاہ عالم آج ہے یارو مزار اپنا کہو حاسد کو تو بھی ساتھ میرے آ یہاں گڑنا
اگر پروانہ بلبل کی طرح مرنے سے تھم رہتا یہ رونا شمع کو اس کے لیے تا صبح کیوں پڑتا
یہ سنگینی و سبکی تیری واعط سب پہ کھل جاتی ترازوئے محبت میں اگر آ کر کے تو تڑتا
نیازؔ آخر ترا دل تخت رب العالمین ہوتا خس و خاشاک غفلت سے اگر یہ خوب سا جھڑتا