سرزمین چشت کی آب و ہوا کچھ اور ہے دین و دنیا سے نرالا اور ہی کچھ طور ہے
پھر رہے ہیں ہر گلی کوچہ میں از خود رفتگاں عشق کی واں سلطنت ہے بے خودی کا دور ہے
کوئی شغل نیستی میں نیست و نابود ہے کوئی نظارہ میں حق کے اک تماشہ طور ہے
وہ جو اک عرصے میں ہوتا ہے میسر اور جاہ یاوری سے عشق کی حاصل یہاں فی الفور ہے
وہ تو الماس نگیں ہیں یا کہ ہیں در یمیں کانچ کی تو پوت ہے یا ریزۂ بلور ہے