عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو عیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو
پوچھو نہ مجھ خراب سے یارو صلاح کار تم اپنے تو اب رہے نہیں ہوش بجا جو ہو سو ہو
مجسے مریض کو طبیب ہاتھ اپنا مت لگا اس کو خدا پہ چھوڑ دو بہر خدا جو ہو سو ہو
عقل کے مدرسہ سے اٹھ عشق کے مے کدہ میں آ جام فنا و بے خودی اب تو پیا جو ہو سو ہو
لاگ کی آگ لگ اٹھی پنبہ نمط سا جل گیا رخت وجود جان و تن کچھ نہ بچا جو ہو سو ہو
دیدہ و دل بہم ہیں ایک سوجھ میں اور بوجھ میں آنکھوں کے سامنے عیاں دل میں بسا جو ہو سو ہو
ہجر کی جو مصیبتیں عرض کیں اس کے سامنے ناز و ادا سے مسکرا کہنے لگا جو ہو سو ہو
ہستی کی اس سرائے میں رات کی رات جو بس لیے صبح عدم ہوئی نہ ہو و پاؤں اٹھاؤ جو ہو سو ہو
دنیا کے نیک و بد سے کام ہم کو نیازؔ کچھ نہیں آپ سے گزر گیا پھر اسے کیا جو ہو سو ہو