مدرسے میں عاشقوں کے جس کی بسم اللہ ہو اس کا پہلا ہی سبق یارو فنا فی اللہ ہو
یہ سبق طولانی ایسا ہے کہ آخر ہو نہ ہو بے نہایت کو نہایت کیسے یا رَبّاہ ہو
دوسرا پھر ہو سبق علم الفنا کا انتفاع یعنی اس اپنی فنا سے کچھ نہ وہ آگاہ ہو
دوڑ آکے تب چلے جب جوڑ پیچھے ہو مدد اس دقیقے کو وہی پہنچے جو حق آگاہ ہو
تیسرا اس کا سبق ہے پھر کے آنا اس طرف اب بقا باللہ حاصل اس کو خاطر خواہ ہو
وہ بھی عاجز ہو گئے مشکل ہے جن کا ربط و ضبط حافظ و ملا یہاں پر کب دلیل راہ ہو
حضرت عشق آپ ہوویں گر مدرس چند روز پھر تو علم فقر کی تحصیل خاطر خواہ ہو
اک توجہ آپ کی وافی و کافی ہے ہمیں کیسا ہی قصہ ہو طولانی تو وہ کوتاہ ہو
اے نیازؔ اپنے تو جو کچھ ہو تمہیں ہو بس فقط حضرت عشق آپ ہو اور آپ دام اللہ ہو