خانقاہ چشت میں جس نے قدم پہلا رکھا دوسرا اس کا قدم پھر عرش بالا پر ہوا
قاب قوسین اس کے آگے ایک ادنیٰ ہے مقام واں پہنچ کر کچھ نہ پوچھو کیا سے کیا وہ ہو گیا
نقش ہستی مٹ گیا نام و نشاں سب اڑ گیا صاف مطلع ہو گیا جو تھا یہاں واں کچھ نہ تھا
سخت مشکل ہے دلا پھر اس کا آنا اس طرف ورنہ ان مردوں میں ہے جن کو مسیحا نے جلا
کیا ہی جی کو بھائی ہیں باتیں یہ تیری اے نیازؔ قول حق تو ہم سمجھتے ہیں میاں تیرا کہا