کم کوئی فقرا سے ملتا ہے خدا کے واسطے دفع اعدا کے لیے یا کیمیا کے واسطے
اہل دنیا کی غرض لگتی ہے جب درویش سے کہتے ہیں اپنے حصول مدعا کے واسطے
اے خدا والو یہی ہے تم سے میری التجا حل کرو مشکل مری مشکل کشا کے واسطے
مدعا حاصل ہوا تو پھر گئے کہنے لگے کیوں خوشامد کیجیے ان کی دعا کے واسطے
ایسے لوگوں سے کریں درویش نا حق اختلاط صحبت ان کی زہر ہے اہل صفا کے واسطے
شاہ جی اس کو نہ کہنا ہے وہ بھک منگا فقیر اغنیا سے جو ملے نشوونما کے واسطے
سایۂ درگاہِ کاظم ہم کو کیا کم ہے ترابؔ کیوں پھریں ہم در بدر ظل ہما کے واسطے