نشاں اس کا کسی سے کب بیاں ہو وہی پاوے نشاں جو بے نشاں ہو
منزہ وہ تو ہے کون و مکاں سے مکاں اس کو کہاں جو لا مکاں ہو
کوئی جاگہ نہیں پر اس سے خالی زمین ہو عرش ہو یا آسماں ہو
سوا اس کے نہیں کوئی جہاں میں تلاش اس کی کرو یارو جہاں ہو
ترابؔ استاد سے معلوم کر لو طریق معرفت گر قدرداں ہو
غنیمت ہے ملاقات آج اس کی خدا معلوم پھر کب ہو کہاں ہو