دل جس کی محبت میں گرفتار ہے میرا وہ دشمن جانی او دل آزار ہے میرا
کہتا ہے خبردار چھپانا مری الفت عاشق سے یہی قول اور اقرار ہے میرا
کس طرح بھلا مجھ سے چھپے درد و غم اس کا غماز تو یہ دیدۂ خوں بار ہے میرا
کیوں کر نہ رکھوں یار کے ملنے کی تمنا دل آرزوئے وصل سے ناچار ہے میرا
کل دیکھ کے مجھ کو وہ لگا کہنے کسی سے پہچانیو اس کو یہ خریدار ہے میرا
صورت نہ دکھاؤں گا اسے اپنی کسی دن کہہ دو یہ عبث تشنۂ دیدار ہے میرا
کس طرح بہ ایں حال اسے یار میں جانوں نادانی سے یہ وہم و پندار ہے میرا
کس طرح ترابؔ اپنا کہوں حال کسی سے جگ میں نہ کوئی یار نہ غم خوار ہے میرا