میں پیر عشق ہوں مجنوں مرید ہے میرا وہ عاشقی میں خلیفہ رشید ہے میرا
فریفتہ ہوں میں جس پر وہ ہے فدا مجھ پر یہ حسن طالع و بخت سعید ہے میرا
تجھے ہو عید مبارک مجھے گلے سے لگا نہ کر حجاب یہ انعام عید ہے میرا
کہا ایاز نے معشوق بن کے مولا سے میاں تو بندہ بے زر خرید ہے میرا
تو صورت اپنی چھپا کر مجھے سناتا ہے نظر بخیر تصور مفید ہے میرا
کرم سے تیرے تو نزدیک ہے کسی دن آ نہ سوچ گھر سے ترے گھر بعید ہے میرا
وہ کان دھر کے مرا ماجرا سنے تو کہوں نئی کہانی ہے قصہ جدید ہے میرا
ترابؔ کس سے مخاطب ہو کل وہ کہتا تھا یہ تیغ عشق کا مارا شہید ہے میرا